Posts

  راتیں کٹتی ہیں دردِ انتظار میں میں بیٹھا خاموش تنہا ایک غار میں ترستی آنکھیں، اداس چہرہ لیے دل دعاگو، تیرے نظر کرم کے اَثار میں قسمت کے گُچھے سلجھ جائیں آخر عید ہو جائے یونہی میری دیدِ یار میں چہرے میں ڈھونڈتی محبت کے آثار میری تنہائی گزرتی ہے تمہارے پیار میں زمانؔ بیٹھا رہا رات اس امید پر جامِ محبت مل جائے یار کے دربار میں